--
Published on 15. Oct, 2011
اسلام آباد ( رؤف کلاسرا) حکومت پاکستا ن کی نگرانی میں چلنے والے ملک کے اکلوتے سرکاری بینک نیشنل بنک آف پاکستان کے جنرل مشرف سے لے کر آصف علی زرداری تک کے دور حکومت میں سب سے زیادہ عرصے تک رہنے والے صدر علی رضا کے آخری تین سالوں میں ڈیرہ ارب روپے سے زیادہ کے کیش فراڈ ہوئے جن میں بنک کے ہی نو سو ملازمین ملوث پائے گئے۔ ان ڈیرہ ارب روپوں سے زائد کے فراڈ کو پہلی دفعہ سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
علی رضا کو نیشنل بنک کی صدارت سے اس وقت سبکدوش ہونا پڑا تھا جب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹں افتخار محمد چوہدری نے ان کو مدت ملازمت میں بار بار دی گئی توسیع کے خلاف فیصلہ سنا دیا تھا۔
______________________________________
نیشنل بنک لوٹ سیل: خواجہ اور شیخ کا دھاوا
گیلانی دور میں ملتانی خواجوں نے بنک لوٹ لیے______________________________________
یہ فراڈ علی رضا کے آخری تین سالوں میں ہوئے اور انہی کے دور میں ہی ملتان کے خواجوں اور شٰخیوں نے اپنے چار قرضے جن کی مالیت ساٹھ کڑور روپے کے قریب بنتی تھی معاف کرائے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے بدلے میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ان مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع سے نوازا تھا۔ ذرائع کے مطابق ان قرضوں کو معاف کرانے کے بدلے میں ان ملتانی خواجوں اور شیخوں نے ملتان میں دربار موسی پاک ( وزیراعظم گیلانی اس دربار کے گدی نشینوں میں سے ہیں) پر جا کرشکرانے کے طور پر 'دیگیں' چڑھوائیں تھیں۔
نیشنل بنک میں ہونے والے اس ڈیرہ ارب روپے کے کیش فراڈ کی تفصیلات وزارت خزانہ نے جعمہ کو قومی اسمبلی میں پیش کیں۔ یہ فراڈ ان کڑروں روپوں کے علاوہ ہے جو نیشنل بنک کے اعلی عہدوں پر کام کرنے والے افسروں نے اپنے درمیاں بونس کے نام پر بانٹ لیے تھے اور ان پر لیا گیا سو موٹو کیس اس وقت چیف جسٹں افتخار چوہدری کی عدالت میں چل رہا ہے۔ علی رضا کا نام بھی افسروں کی اس فہرست میں موجود ہے جنہوں نے بونس لیے تھے۔ علی رضا نے دو کڑور روپے کا بونس اپنے آپ کو یہ کہہ کر دے دیا تھا کہ جب سے وہ بنک کے صدر بنے تھے بنک کا کارگردگی بہت اچھی ہوگئی تھی اور وہ انعام کے حقدار تھے۔
وزارت خزانہ کی دستاویزات کے مطابق 2008 میں کل ایک سو اکاون فراڈ کے کیس رپورٹ ہوئے اور بنک کی 62 کڑور روپے کی رقم لوٹ لی گئی۔ ان پیسوں میں سے صرف سات کڑور واپس آئے اور باقی 55 کڑور غائب ہو گئے۔ اگلے سال 2008 میں اس بھی بڑا فراڈ ہوا جب نیشنل بنک میں 90 کڑرو روپے کا فراڈ سامنے آیا جس میں سے صرف 40 کڑرو واپس ہوئے اور باقی کے 50 کڑور غائب ہو گئے۔ تیسرے سال 2010 میں فراڈ ہونیو الی رقم کی مالیت اٹھارہ کڑور تھی جس میں صرف ایک کڑور اسی لاکھ روپے واپس ملے اور باقی کے تقریبا سولا کڑور کھائے گئے۔
یوں ان تین سالوں میں بنک میں فراڈ ہونے والی رقم کی مالیت ایک ارب اور ستر کڑور روپے تھی جس میں سے تقریبا پچاس کڑور روپے واپس بنک کو مل گئے جب کی باقی کے ایک ارب بیس کڑور روپے ڈوب گئے۔ وزارت خزانہ بے بتایا کہ نیشنل بنک میں فراڈ کرنے والے ملازمیں کو یا تو نوکریوں سے برطرف کر دیا گیا تھا یا ان کی تنرلی کی گئی یا تنخواہوں میں کمی کی گئی یا جنہیں سرزنش کر کے چھوڑ دیا گیا۔ فراڈ میں ملوث ملازمین کی تعداد نو سو کے قریب بتائی گئی تھی۔ دریں اثناء وزارت خزانہ نے قومی اسمبلی میں نیشنل بنک کے ان افسروں کے فہرست بھی پیش کی جو اعلی عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور انہیں لاکھوں کی تنخواہ کے علاوہ جو مراعات مل رہی ہیں، وہ اس کے علاوہ ہیں۔
وزارت خزانہ کے بقول 2000 سے لیکر اب تک نیشنل بنک میں چار افسران گروپ چیف، سینئر ایگزیکٹو وائس صدر کے عہدوں پر تعنیات کیے گئے جن کے نام محمد سردار خواجہ، خالد بن شاہین، اقبال اشرف اور شاہد انور ہیں۔ ان افسروں کو تنخواہوں کے علاوہ جو مراعات دی گئی ہیں ان کے مطابق، ہر افسر کے لیے کلب کی فیس دس ہزار روپے، چیمبر کے اندر دفتری کام کے اخراجات تین ہزار روپے ماہانہ، موبائل فون 8500 روپے ایندھن اور پٹرول کی سیلنگ دو کاروں کے لیے 700 سو لٹرز، بینک کی طرف سے سولہ سو سی سی کار ڈرایؤر سمیت دو کاریں اور پراڈو جیپ، ہر افسر کی رہائش گاہ پر 400 لیٹر تک لمٹ کا ایک جنریٹر، مکان کی ارائش ہر تین سال بعد پانچ لاکھ روپے۔ ہر افسر کی رہائش گاہ پر تین سکیورٹی گارڈز کی تنخواہیں اٹھائیس ہزار روپے اور گھر پر دو اخبارات۔
تاہم وزارت خزانہ نے یہ نہیں بتایا کہ ان افسروں کو ان مراعات کے علاوہ ماہانہ تنخواہ کیا مل رہی ہے۔
پاکستان کسی بھی پاکستانی کے لئے اللہ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے. آج ہم جو بھی ہے یہ سب اس وجہ پاکستان کی ہے ، دوسری صورت میں ، ہم کچھ بھی نہیں ہوتا. براہ مہربانی پاکستان کے لئے مخلص ہو.
* Group name:█▓▒░ M SHOAIB TANOLI░▒▓█
* Group home page: http://groups.google.com/group/MSHOAIBTANOLI
* Group email address MSHOAIBTANOLI@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
MSHOAIBTANOLI+unsubscribe@googlegroups.com
*. * . * . * . * . * . * . * . * . * . *
*. * .*_/\_ *. * . * . * . * . * . * . * . * .*
.•´¸.•*´¨) ¸.•*¨) ¸.•´¸.•*´¨) ¸.•*¨)
(¸.•´ (¸.•` *
'...**,''',...LOVE PAKISTAN......
***********************************
Muhammad Shoaib Tanoli
Karachi Pakistan
Contact us: shoaib.tanoli@gmail.com
+923002591223
Group Moderator:
*Sweet Girl* Iram Saleem
iramslm@gmail.com
Face book:
https://www.facebook.com/TanoliGroups
Sunday, 30 October 2011
نیشنل بنک: علی رضا دور میں ڈیڑھ ارب کے فراڈ
2011/10/15 chaudry <k_w572001@yahoo.com>
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment
Note: only a member of this blog may post a comment.